Mom & Dad Habit

ہماری اماں مرحومہ کو ہمارے بابا کی ایک عادت بہت پسند تھی وہ یہ کہ گھر میں جو کچھ بھی پکتا اُسے بہت شوق سے کھاتے تھے اگر کسی دن کچھ زیادہ ہی اچھا کھانا بن جاتا تو کھانے اور تعریف کرنے کے بعد جیب سے پانچ روپے یا دس روپے کا نوٹ نکال کر یہ کہتے ہوئے اماں کے ہاتھ پے رکھ دیتے تھے کہ لو بھئی آج اتنا لذیذ کھانا بنانے کا انعام، امی وہ انعام پا کے نہال ہو جاتی تھیں پھر وہ انعام کے پیسے سنبھال کے رکھ لیا کرتی تھیں،

انتقال سے پہلے اماں کو الزائمر کا مرض لاحق ہو گیا تھا اس لیئے اکثر باتیں بھول جاتی تھیں لیکن اکثر نوٹوں کی ایک پوٹلی کا زکر کرتیں جو شاید وہ کہیں رکھ کر بھول گئی تھیں یہ وہی نوٹ تھے جو بابا اکثر انھیں انعام کے طور پر دیا کرتے تھے، ان عید کی چھٹیوں میں کچھ فراغت میسر آئی تو سوچا تہہ خانے کی صفائی کرلی جائے جہاں کئی جہازی سائز کی فولادی الماریاں یادوں سے بھری پڑی تھیں، صفائی کے دوران اچانک میری نظر ایک جامنی رنگ کی تھیلی پر پڑی میں نے اُسے کھولا تو یہ دیکھ کر دنگ رہ گیا کہ اُس میں دس اور پانچ پانچ کے ڈھیر سارے نوٹ ایک خاص ترتیب سے رکھے ہیں اب جو غور کیا تو حیرت اور بڑھی کہ ہر نوٹ پے دن، تاریخ، اور سن لکھا ہے، نوٹوں کو ہاتھ میں لیتے ہی آنکھیں بھیگ گئیں کیونکہ اُن میں سے ماں اور باپ دونوں کی پیار بھری مہک آرہی تھی،

بے شک یہ اماں کے پاس بابا کا دیا ہوا سب سے بیش بھا خزانہ تھا جنھیں بابا کے بعد اماں دیکھ دیکھ کر جیتی ہونگی، یقین جانیئے بابا کے انتقال کے بعد اماں لاکھ کوشش کے باوجود ویسا کھانا نہیں بنا سکیں جیسا بابا کی زندگی میں بنایا کرتی تھیں اکثر لوگ کہتے تھے کہ “پیاری بیگم تمھارے میاں جاتے جاتے تمھارے ہاتھوں سے ذائقہ بھی لے گئے” اب مجھے یہ بات آسانی سے سمجھ آگئی کہ اگر بیوی کے کام میں نکھار لانا ہو تو اُس کا حوصلہ بڑھائیں اس طرح کام کے ساتھ ساتھ آپکی بیوی بھی نکھر جائے گی اور حوصلہ محبت کی لازوال شکل اختیار کر لے گا ❤️

منقول

Leave a Reply